منگل کے دن کپڑے کاٹنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
منگل کے دن کپڑے کاٹنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ منگل کے دن کپڑے کاٹنا کیسا ہے؟
سائل: محمد آصف (جوہرٹاون، لاہور)
جواب
منگل کے دن کپڑے کاٹنے سے بچنا چاہئے، کہ اس دن کپڑے کاٹنے سے نقصان ہو نے کا خطرہ ہے، کہ بعض اکابرین نے مولا علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل فرمایا ہے کہ جو کپڑا منگل کو کاٹا جائے، وہ یا جل جائے گا یا ڈوب جائے گا یا چوری ہوجائے گا۔ البتہ یہ واضح رہے کہ اگر کوئی منگل کے دن کپڑے کاٹے گا تو یہ ناجائز و گناہ نہیں ہے۔
منگل کے دن کپڑے کاٹنے کے متعلق شیخِ محقق، شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ الروضہ کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں: من قطع فی یوم الثلثاء سرقہ السارق او اغرقہ الماء او احرقہ النار“ ترجمہ: جو شخص منگل کے دن کپڑا کاٹے تو (اسے) یا تو چور چرا لے گا، یا وہ کپڑا پانی میں ڈوب جائے گا یا اسے آگ جلا دے گی۔ (کتاب الالتباس فی استحباب اللباس مترجم، صفحہ 31، مطبوعہ کراچی)
نیز یہی شیخِ محقق، شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ زاد المتورعین کے حوالہ سے نقل فرماتے ہیں: یہ قول حضرت علی کرم اللہ وجھہ الکریم کے اقوال میں سے ہے اور حدیث سے ثابت نہیں، مگر حدیث شریف میں اسی قدر ہے، کہ نیا لباس شب جمعہ یا بروز جمعہ بنیتِ نمازِ جمعہ پہنے اور عیدین میں نیا لباس پہنے اگر میسر ہو سکے، کہ اس میں برکت ہے۔ (کتاب الالتباس فی استحباب اللباس مترجم، صفحہ 30، 31، مطبوعہ کراچی)
الشیخ الاکبر، الکبریت الاحمر، سیدی محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کے مجموعہ رسائلِ ابن عربی میں نیا کپڑا منگل کے دن کاٹنے کے حوالے سے ہے: ان کان یوم الثلثاء یضیع فی البحر او یحرق بالنار او یسرقہ السارق“ ترجمہ: اگر (نیا کپڑا) منگل کے دن کاٹا یا تو (وہ کپڑا) سمندر میں ڈوب جائے گا، یا آگ میں جل جائے گا یا اسے چور چرا لے گا۔ (مجموعہ رسائلِ ابن عربی، صفحہ 459، دار الحجۃ البیضاء)
اعلیٰ حضرت، اما م اہل سنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کی خدمت میں سُوال ہوا کہ نیا کپڑا کونسے روز پہنے اور دَرزی کو کون سے روز سِلنے کو دے؟ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نےفرمایا: کپڑے کے اِستعمال یا دَرزی کو دینے کے لئے کوئی خصوصیت نہیں۔ ہاں! منگل کے دِن کپڑا قطع نہ کیا جائے۔ مولا علی کرم اللہ تعالی وجھہ الکریم نے فرمایا: جو کپڑا منگل کے روز قطع کیا جائے وہ جلے یا ڈوبے یا چوری ہو جائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 184، رضا فاونڈیشن، لاہور)
منگل کے دن کپڑے کٹوانے کے حوالے سے امام اہل سنت کا عمل مبارک ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے: مولف: جبل پور جانے کے چار روز باقی ہیں اورحضرت الاقدس کے واسطے کپڑے سلوانا تھے، سلطان حیدر خاں نے عرض کی درزی کو دے دئیے جائیں۔ امام اہل سنت اعلی حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے ارشاد فرمایا: آج منگل کا دن ہے۔ جس کی نسبت مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجھہ الکریم کا ارشاد ہے کہ جو کپڑا منگل کے دن قَطع ہو وہ جلے گا یا ڈوبے گا یا چوری (ہو) جائے گا۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص 268،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-123
تاریخ اجراء: 29 محرم الحرام 1443ھ / 07 ستمبر 2021ء