خواب میں نبی پاک ﷺ طلاق کا حکم دیں تو کیا طلاق دینی ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خواب میں کسی کو نبی پاک صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم بیوی کو طلاق دینے کا فرمائیں، تو کیا طلاق دینی ہوگی؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی کو خواب میں نبی پاک صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کی زیارت ہو اور وہ بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیں، تو کیا بیوی کو طلاق دینی ہوگی؟
جواب
بلاوجہ شرعی اپنی عورت کو طلاق دینا جائز نہیں ہے، لہذا اگر بیوی کو طلاق دینے کی کوئی وجہ شرعی موجود نہیں ہے تو خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف سے اس طرح کا حکم دیا جانا، خواب دیکھنے والے کی غلطی پر محمول کیا جائے گا کہ اس کے سننے یا سمجھنے میں غلطی ہوگئی ہے لہٰذا وہ شخص فقط اس خواب کی بنا پر اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا۔
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اگر خواب میں حضور کوئی ناجائز حکم دیں تو وہ ہمارے اپنے سننے میں فرق ہے، کسی نے خواب میں دیکھا کہ حضور فرماتے ہیں: اشرب خمرا (تم شراب پیو) اس کی تعبیر دی گئی کہ حضور نے فرمایا ہے: لا تشرب (شراب مت پی) تو نے غلطی سے سن لیا اشرب (پی) یا خمر سے مراد شراب طہور، شراب محبت ہے۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 06، صفحہ 210، شبیر برادرز، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2475
تاریخ اجراء: 28 ربیع الاول 1447ھ / 22 ستمبر 2025ء