دعائے گنج العرش پڑھنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دعائے گنج العرش پڑھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرا سوال ہے کہ دعائے گنج العرش کیا نہیں پڑھنی چاہیے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حدیث سے ثابت نہیں ہے اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے بہت سے فائدے ہیں، پڑھنی چاہیے۔، بتا دیں کہ سچ کیا ہے؟ میں بہت کنفیوز ہوں۔
جواب
دعائے گنج العرش، اگرچہ اس ترتیب و ہیئت کے ساتھ حدیث میں نہیں آئی، لیکن مطلق حکم ربانی (ادعونی) (مجھ سے دعاکرو) کے تحت داخل ہے، لہذا یہ دعا مانگنا حکم ربانی پر عمل کرنا ہے، اور حکم ربانی پر عمل کرنا ثواب کا کام ہے، جیسے ہم اپنی زبان میں بہت سی جائز دعائیں مانگتے ہیں، جوکہ قرآن وحدیث میں بعینہ مذکورنہیں ہوتیں، لیکن یہ سب مطلق حکم ربانی کے تحت داخل ہیں اور ان کا کرنا، اسی حکم پر عمل کرنا ہے۔ نیزعلمائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ ہر دعا ذکر ہے۔ تو اس کے مطابق دعائے گنج العرش بھی ذکر ہے، لہذا ذکر کے متعلق جتنی روایات ہیں، ان کے عموم میں دعائے گنج العرش بھی داخل ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: (وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-) ترجمہ کنزالایمان: اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ (سورۃ المومن، پ 24، آیت 60)
فتاوی رضویہ میں ہے دُعا مطلقاً اعظم مندوباتِ دینیہ واجل مطلوبات شرعیہ سے ہے کہ شارع صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہمیں بے تقییدِ وقت و تخصیصِ ہیأت مطلقاً اس کی اجازت دی اور اُس کی طرف دعوت فرمائی اور اسکی تکثیر کی رغبت دلائی اور اس کے ترک پر وعید آئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس چیز کو اس نے کسی ہیأتِ خاصہ محل معین سے مخصوص اور اس پر مقصور و محصور فرمایا اس سے تجاوز جائز نہیں، جو تجاوز کرے گا دین میں بدعت نکالے گا اور جس چیز کو اس نے ارسال و اطلاق پر رکھا ہرگز کسی ہیأت و محل پر مقتصر نہ ہوگی اور ہمیشہ اپنے اطلاق ہی پر رہے گی جو اس سے بعض صور کو جدا کرے گا دین میں بدعت پیداکرے گا، ذکر و دعا اسی قبیل سے ہیں کہ زنہار شرع مطہر نے انہیں کسی قید و خصوصیت پر محصور نہ فرمایا بلکہ عموماً و مطلقاً ان کی تکثیر کا حکم دیا۔ دعا کے بارے میں آیات و حدیث سن ہی چکے اور دلائل مطلقہ تکثیر ذکر جنہیں اس سلسلہ شمار میں (خامساً) کہئے کہ ہر دعا بالبداہۃ ذکر الٰہی ہے اور اس پر علما نے تنصیص بھی فرمائی، مولانا قاری شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں: کل دعاء ذکر (ہر دعا ذکر ہے۔) تو اجازت عامہ ذکر کے دلائل بعینہا اجازت عامہ کے دلائل ہیں کہ تعمیم افراد اعم یا مساوی، لاجرم تعمیم افراد اخص و مساوی ہے کما لایخفی (فتاوی رضویہ، ج 08، ص 530، 535 رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی والدہ بھی دعائے گنج العرش پڑھا کرتی تھیں، جیسا کہ انوار الحدیث میں تعارف مصنف کے باب میں یہ بات موجود ہے کہ مفتی صاحب فرماتے ہیں: میری والدہ مرحومہ بی بی رحمت النساء ایک دیندار گھرانے کی لڑکی تھیں۔ بہت نمازی اور صبح تلاوتِ قرآن مجید کی بے حد پابند تھیں۔ دعائے گنج العرش اور درود لَکھی ان کوزبانی یاد تھی، جن کو روزانہ بلا ناغہ پڑھا کرتیں۔ (انوار الحدیث، صفحہ 33، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5133
تاریخ اجراء: 27 ذو الحجۃ الحرام 1446ھ / 24 جون 2025ء