میت کی نمازِ جنازہ بھائی پڑھائے گا یا نابالغ بیٹا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
میت کے بھائی اور نابالغ بیٹے میں سے نماز جنازہ پڑھانے کا حق کس کو ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا انتقال ہوا، اس کا نابالغ سمجھدار بیٹا اور بالغ بھائی موجود ہیں جبکہ باپ، دادا نہیں ہیں تو نماز جنازہ پڑھانے کیلئے کس سے اجازت لینا ہوگی، نابالغ سمجھدار بیٹے سے یا مرحوم کے بھائیوں سے؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں زید کی نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے اس کے بھائیوں سے اجازت لینا ہوگی، نہ کہ نابالغ بیٹے سے، اگرچہ وہ سمجھدار ہے۔
تفصیل یہ ہے کہ میت کی نماز جنازہ پڑھانے یا اجازت دینے کی ولایت میت کے عصبہ ولی کو ہوتی ہے۔ اور یہ ولایت، بالترتیب میت کے عصبہ اولیا میں سے عاقل بالغ مردوں کو حاصل ہوتی ہے۔ نابالغ کو نمازِ جنازہ کی ولایت حاصل نہیں ہوتی، لہذا جب میت کا بیٹا نابالغ ہے، تو نماز جنازہ کی ولایت بیٹے کو نہیں بلکہ بیٹے کے بعد میت کے قریبی عاقل و بالغ عصبہ ولی کو حاصل ہو گی اور صورت مذکورہ میں بیٹے کے بعد میت کے قریبی عاقل و بالغ عصبہ ولی اس کے بھائی ہیں، تو انہیں یہ ولایت حاصل ہو گی۔
جوہرہ نیرہ میں ہے: ”أن الأقرب فالأقرب من عصبات الميت أولى ولا حق للنساء في الصلاة على الميت ولا للصغار“ ترجمہ: میت کے عصبہ اولیا میں سے اقرب فالاقرب اولی ہو گا، اور میت کی نماز جنازہ میں عورتوں اور نابالغ بچوں کو حق ولایت حاصل نہیں۔ (الجوهرة النيرة، جلد 1، صفحہ 263، دار الکتب العلمیہ)
عاقل و بالغ مر د، میت کا ولی ہو تا ہے، نابالغ میت کا ولی نہیں ہوتا چنانچہ رد المحتار میں ہے: ”ولي الميت الذكر البالغ العاقل فلا ولاية لامرأة وصبي ومعتوه“ ترجمہ: میت کا ولی، عاقل بالغ مرد ہوتا ہے لہذا عورت، نابالغ بچے اور معتوہ کو نماز جنازہ کی ولایت حاصل نہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 2، صفحہ 220، دار الفكر، بيروت)
نابالغ کو جب خود نماز جنازہ کی ولایت حاصل نہیں تو دوسرے کو اجازت دینے کی ولایت بھی حاصل نہیں چنانچہ محیط برھانی میں ہے: ”ولا حق للنساء ولا للصغار في التقديم؛ لأن حق التقديم يبني على ولاية التقدم، وليس للنساء والصغار ولاية التقدم فلا يكون لهم حق التقديم“ ترجمہ: عورتوں اور نابالغ بچوں کو نماز جنازہ کے لیے کسی دوسرے کو مقدم کرنے کا حق حاصل نہیں کیونکہ مقدم کرنے کے حق کی بنا مقدم ہونے کے حق پر ہے حالانکہ عورتوں اور نابالغ بچوں کے لیے مقدم ہونے کا حق نہیں لہذا انہیں دوسرے کو مقدم کرنے کا حق حاصل نہیں۔ (المحيط البرهاني، جلد 2، صفحہ 189، دار الكتب العلمية، بيروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ”در صورت مستفسرہ ولایتِ نماز پدر خدیجہ رابود۔ آرے اگر خدیجہ از مولوی عبد الحکیم پسرے عاقل بالغ داشتے حق ِتقدم مرا و را بودے کہ پسر بر پدر در عصوبت مرجح است“ ترجمہ: ’’صورت مسئولہ میں نماز کی ولایت خدیجہ کے والد کو ہوگی۔ ہاں اگر خدیجہ کا مولوی عبد الحکیم سے کوئی عاقل بالغ لڑکا ہوتا تو اسے حق تقدم ہوتا کیونکہ عصبہ ہونے میں بیٹے کو باپ پر ترجیح حاصل ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 177، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0298
تاریخ اجراء: 06 محرم الحرام 1448 ھ/22 جون 2026ء