جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا ضروری ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جنازہ کسی جگہ سے گزرے، تو اسے دیکھ کر کھڑے ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ مفتیٰ بہٖ قول کیا ہے؟ (2) جن روایات میں جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا ذکر موجود ہے، ان کا محمل کیا ہو گا؟
جواب
کتبِ احادیث میں جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے اور بیٹھے رہنے دونوں صورتوں کے متعلق روایات موجود ہیں۔ بعض میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا کسی جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے متعلق حکم اور عمل بیان کیا گیا ہے، جبکہ بعض سے بیٹھنے کا حکم اور خود بھی بیٹھے رہنا ثابت ہے۔ ان تمام روایات کے پیشِ نظر محدثینِ کرام و فقہائے عظام نے یہ شرعی حکم بیان فرمایا کہ:
اگر کسی جگہ بیٹھے ہوں، وہاں سے جنازہ گزرے، تو جو شخص جنازے کے ساتھ جانا چاہتا ہے، وہ کھڑا ہو اور جنازہ میں شامل ہو جائے اور جو شرکت کا ارادہ نہیں رکھتا، اس کے لئے کھڑا ہونا ضروری نہیں ہے۔
(2) اور جن روایات میں قولاً یا عملاً کھڑے ہونے کا ذکر موجود ہے، اس کے متعلق علماء نے مختلف اعتبار سے جواب ارشاد فرمائے ہیں:
(۱) جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانے کا جو حکم فرمایا گیا تھا، وہ منسوخ ہو چکا اور یہی راجح جواب ہے۔ یعنی پہلے حضور علیہ الصلوۃ والسلام جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوا کرتے تھے، صحابہ کرام بھی آپ کی اتباع میں کھڑے ہو جاتے، پھر آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے کھڑے ہونا چھوڑ دیا اور بیٹھے رہتے، تو صحابہ کرام نے بھی کھڑا ہونا چھوڑ دیا۔
(۲) جنازہ دیکھ کر کھڑا ہونا اس میں شرکت کے لئے تھا۔
علمائے کرام نے ان کے علاوہ مزید جوابات بھی ارشاد فرمائے ہیں، ان کی تفصیل جاننی ہو، تو امامِ اجل امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’شرح معانی الآثار‘‘ اور مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کی شرح مشکوۃ بنام ’’مراۃ المناجیح‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔
مذکورہ تفصیل کے متعلق جزئیات درج ذیل ہیں:
وہ روایات جن میں کھڑے ہونے کا ذکر ہے، ان میں سے دو یہ ہیں۔ حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اذا رایتم الجنازۃ، فقوموا لھا حتی تخلفکم او توضع‘‘ ترجمہ: جب تم جنازہ کو دیکھو تو اس کے لئے کھڑے ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا پھر رکھ دیا جائے۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب القیام للجنازۃ، جلد 2، صفحہ 659، مطبوعہ بیروت)
ایک اور روایت میں ہے: ’’ان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم مر عليه بجنازة فقام‘‘ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س سے ایک جنازہ گزرا، تو آپ علیہ السلام کھڑے ہو گئے۔ (مسند احمد بن حنبل، جلد 18، صفحہ 28، مطبوعہ بیروت)
کھڑے ہونے کا حکم منسوخ ہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امرنا بالقیام فی الجنازۃ، ثم جلس بعد ذلک وامرنا بالجلوس‘‘ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنازہ کے لئے کھڑے ہونے کا حکم دیا، پھر اس کے بعد آپ بیٹھے اور ہمیں بھی بیٹھنے کا حکم دیا۔ (مسند احمد بن حنبل، جلد 1، صفحہ 57، مطبوعہ بیروت)
ایک اور روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، فرماتے ہیں: ’’راینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قام فقمنا، قعد فقعدنا یعنی فی الجنازۃ‘‘ ترجمہ: ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہوتے، تو ہم بھی کھڑے ہونے لگے، (پھر) بیٹھتے دیکھا، تو ہم بھی بیٹھنے لگے۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب القیام للجنازۃ، جلد 2، صفحہ 662، مطبوعہ بیروت)
اس روایت کے تحت امام اجل امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’فقد ثبت بما ذكرنا ان القيام للجنازة قد كان ثم نسخ‘‘ ترجمہ: جو روایت ہم نے ذکر کی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنازے کے لئے کھڑے ہونے کا حکم پہلے تھا، پھر یہ منسوخ ہو گیا۔ (شرح معانی الآثار، کتاب الصلوۃ، باب الجنازۃ تمر بالقوم ایقومون لھا ام لا، جلد 1، صفحہ 284، مطبوعہ لاہور)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’اولاً میت کے لئے کھڑے ہوجانے کا حکم تھا یا تو میت کی تعظیم کے لئے یا ساتھ والے فرشتوں کی یا موت کی گھبراہٹ کے اظہار کے لئے، لیکن یہ حکم بعد میں منسوخ ہو گیا‘‘۔ (مراۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 467، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
کھڑا ہونا جنازے میں شرکت کے لئے ہوتا تھا۔ شرح معانی الآثار میں ہے: ’’ان العباس بن عبد المطلب والحسن بن علي رضي اللہ عنهما مرت بهما جنازة، فقام العباس ولم يقم الحسن رضي اللہ عنه، فقال العباس للحسن: اما علمت ان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم مرت عليه جنازة فقام؟ فقال: نعم وقال الحسن للعباس: اما علمت ان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم كان يصلي عليها؟ قال: نعم‘‘ ترجمہ: حضرت عباس بن عبد المطلب اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پا س سے جنازہ گزرا، تو حضرت عباس کھڑے ہو گئے، لیکن حضرت حسن کھڑے نہ ہوئے، تو حضرت عباس نے حضرت حسن سے فرمایا: آپ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ علیہ السلام کھڑے ہو گئے؟ انہوں نے کہا: ہاں! (لیکن) آپ نہیں جانتے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
اس کے تحت امام ابو جعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’فدل هذا الحديث ان قيام رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ذلك، انما كان ليصلي عليها، لا لان من سنتها ان يقام لها‘‘ ترجمہ: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھڑا ہونا اس پر نماز پڑھنے (اور جنازہ میں شرکت) کے لئے ہوتا تھا، قیام کی یہ وجہ نہیں تھی کہ جنازے کے لئے کھڑا ہونا اس کے آداب میں سے ہے۔ (شرح معانی الآثار، کتاب الصلوۃ، باب الجنازۃ تمر بالقوم ایقومون لھا ام لا، جلد 1، صفحہ 284، مطبوعہ لاھور)
مراۃ المناجیح میں ہے: ’’وہ قیام منسوخ ہوا ہے جو صرف گھبراہٹ کے اظہار یا ملائکہ موت کی تعظیم کے لئے ہو اور ساتھ جانے کا ارادہ نہ ہو، (ورنہ) ساتھ جانے کے لئے اٹھنا تو اب بھی ضروری ہے‘‘۔ (مراۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 467، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
کتبِ فقہ سے جزئیات:
خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’(لا یقوم من فی المصلی لھا اذا رآھا) قبل وضعھا ولا من مرت علیہ ھو المختار وما ورد فیہ منسوخ‘‘ ترجمہ: جو شخص جنازہ گاہ میں موجود ہو، جب جنازہ دیکھے تو اس کے رکھنے سے قبل کھڑا ہونا ضروری نہیں اور نہ اس کے لئے کھڑا ہونا ضروری ہے جس کے پاس سے گزرے، یہی مختار ہے اور جو روایات میں کھڑے ہونے کا ذکر ہے، وہ منسوخ ہے۔ (در مختار، کتاب الصلاۃ، جلد 3، صفحہ 161، مطبوعہ پشاور)
فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’ولا يقوم للجنازة الا ان يريد ان يشهدها‘‘ ترجمہ: جنازہ کے لئے کھڑا نہیں ہو گا، مگر وہ شخص جو اس میں شرکت کا ارادہ رکھتا ہو۔ (فتاوی عالمگیری، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، جلد 1، صفحہ 162، مطبوعہ بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ’’اگر کسی جگہ بیٹھے ہوں اور وہاں سے جنازہ گزرا، تو کھڑا ہونا ضرور نہیں۔ ہاں! جو شخص ساتھ جانا چاہتا ہے، وہ اٹھے اور جائے۔“ (بھار شریعت، حصہ 4، صفحہ 824، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7156
تاریخ اجراء: 03 رجب المرجب 1444ھ / 26 جنوری 2023ء