عورت کے کفن میں سلا ہوا پاجامہ شامل کر سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورت کے کفن میں سلا ہوا پاجامہ شامل کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض خواتین یہ کہتی ہیں کہ عورت کے کفن میں اس کو سلا ہوا پاجامہ یا شلوار دینی چاہیے۔ اور وہ اس پر کافی زور دیتی ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟
جواب
مرد و عورت دونوں کی میت کے لئے ازار یعنی تہبند والی چادر ہی سنت ہے۔ لہذا عورت کی میت کو بھی سلا ہوا پاجامہ یا شلوار پہنانا خلافِ سنت ہے۔ بالخصوص عورت کے کفن کے متعلق سنت طریقہ جو حدیث پاک سے ثابت ہے، اس کے مطابق عورت کے کفن میں سلی ہوئی شلوار شامل نہیں ہے، بلکہ تہبند یعنی بغیر سلی چادر ہے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک شہزادی محترمہ کی وفات پر غسل دینے والی خواتین کو کفن کے کپڑے خود ایک ایک کر کے پکڑائے اور یہ پانچ کپڑے تھے، لیکن اس میں سلی ہوئی شلوار نہیں تھی۔ اور ان پانچ کپڑوں میں سب سے پہلے اپنا تہبند شریف بطور تبرک عطا فرمایا اور غسل دینے والی خواتین کو فرمایا کہ یہ والی چادر ان کے جسم کے ساتھ متصل رکھیں۔
میت کو شلوار نہ پہنانے کی وجہ علماء نے یہ بیان کی ہے کہ زندہ شخص شلوار اس لئے پہنتا ہے کہ چلنے پھرنے اور کام کاج کے وقت اس کا سَتَر (یعنی مرد و عورت کا وہ مقام جسے چھپانا واجب ہے وہ) نہ کھلے، لیکن میت کے لئے ایسا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا، کیونکہ اس نے چلنا نہیں ہوتا اس لئے میت کو شلوار کی حاجت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زندہ انسان تہبند نیچے اور قمیص اوپر رکھتا ہے، تاکہ اس کو چلنے میں سہولت رہے اور میت نے چونکہ چلنا نہیں اس لئے اس کی قمیص نیچے اور ازار (تہبند) کی چادر اس سے اوپر ہوتی ہے۔ اور اسی وجہ سے میت کو جو قمیص پہنائی جاتی ہے، اس کی آستینیں نہیں رکھی جاتیں اور اس کی قمیص کو پہلوؤں کی جانب سے سلائی نہیں کیا جاتا، کیونکہ زندہ انسان کو تو اپنے لباس میں اس کی حاجت ہوتی ہے، جبکہ میت کو اس کی حاجت نہیں ہوتی۔
خلاصہ یہ کہ میت اگر عورت ہو، تو اسے بھی سنت کے مطابق کفن دینا چاہیے او راس میں سلی ہوئی شلوار نہیں پہنانی چاہیے۔ جو لوگ سلا ہوا پاجامہ یا شلوار پہنانے پر زور دیتے ہیں، وہ اپنی کم علمی کی وجہ سے سنت و طریقہ مسلمین کی مخالفت کرتے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ اس سے باز آئیں اور علمائے کرام نے جو شریعت کے احکام و مسائل بیان فرمائے ہیں، ان کو تسلیم کر کے ان پر عمل کریں۔ اسی میں ہماری کامیابی ہے۔
مذکورہ بالا باتوں سے متعلق حوالہ جات اور جزئیات درج ذیل ہیں:
صحیح مسلم، ترمذی و ابو داؤد وغیرہ میں حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کی وفات ہوئی، تو آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں غسل دینے کا طریقہ ارشاد فرمایا اور پھر فرمایا: جب تم غسل دےکر فارغ ہو جاؤ، تو مجھے اطلاع دینا۔ پھر جب ہم فارغ ہو گئیں، تو ہم نے آپ کو اطلاع دی ”فأعطانا حقوه، فقال: «أشعرنها إياه»“ تو اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند شریف ہمیں پکڑایا اور فرمایا ”یہ چادر اس کے جسم کے ساتھ متصل رکھو۔“ (سنن ابو داؤد، کتاب الجنائز، حدیث 3142، جلد 3، صفحہ 197، مکتبہ عصریہ، بیروت)
مسند احمد، المعجم الکبیر و الاوسط، سنن کبری للبیہقی اور سنن ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ لیلیٰ بنتِ قانف ثقفیہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں بھی ان خواتین میں شامل تھی جنہوں نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہزادی کو وفات کے بعد غسل دیا تھا۔ فرماتی ہیں: ”فكان أول ما أعطانا رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم الحقاء، ثم الدرع، ثم الخمار، ثم الملحفة، ثم أدرجت بعد في الثوب الآخر»، قالت: «ورسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم جالس عند الباب معه كفنها يناولناها ثوبا ثوبا»“ ترجمہ: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے ہمیں تہبند عطا کیا، پھر قمیص، پھر دوپٹہ، پھر چادر اور پھر میت کو ایک دوسرے (بڑے) کپڑے میں لپیٹ دیا گیا۔ یہ خاتون مزید بیان کرتی ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شہزادی محترمہ کا کفن لئے دروازے کے پاس بیٹھے تھے اور کفن کے کپڑے ہمیں ایک ایک کر کے پکڑا رہے تھے۔ (سنن ابو داؤد، کتاب الجنائز، حدیث 3157، جلد 3، صفحہ 200، مکتبہ عصریہ، بیروت)
کتبِ فقہ مثلاً محیط، بدائع، تبیین، فتح القدیر، بحرالرائق، اور رد المحتار، ہندیہ وغیرہ میں ہے (واللفظ للھندیۃ): ’’کفن المرأۃ سنۃ درع وإزار وخمار ولفافۃ وخرقۃ یربط بھا ثدیاھا‘‘ ترجمہ: عورت کے لئے سنت کفن قمیص، اِزار (تہبند)، اوڑھنی، لفافہ اور سینہ بندہے۔ (فتاوی هنديه، کتاب الجنائز، الباب الحادی والعشرون، جلد 1، صفحہ 160، دار الفکر، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ”مرد کے ليے سنت تین کپڑے ہیں۔ (۱) لفافہ (۲) اِزار (۳) قمیص۔ اور عورت کے ليے پانچ۔ تین یہ اور (۴) اوڑھنی (۵) سینہ بند۔“ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 817، مکتبۃ المدینہ )
میت کے لئے تہبند ہی شلوار کے قائم مقام ہوتی ہے، اس حوالے سے امام سرخسی رحمہ اللہ (متوفی 483 ھ) مبسوط میں اور امام کاسانی (متوفی 587 ھ) رحمہ اللہ بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں (واللفط للمبسوط): ”في حياته كان يلبس السراويل حتى إذا مشى لم تنكشف عورته وذلك غير محتاج إليه بعد موته فالإزار قائم مقام السراويل ولكن في حال حياته الإزار تحت القميص ليتيسر المشي عليه وبعد الموت الإزار فوق القميص ۔۔۔۔ لأنه لا يحتاج إلى المشي ملتقطا‘‘ ترجمہ: مرنے والا زندگی میں شلوار پہنتا تھا تاکہ چلنے میں اس کا سَتر ظاہر نہ ہو اور مرنے کے بعد اسے اس کی حاجت نہیں، اس لئے مرنے کے بعد تہبند، زندگی میں پہنی جانے والی شلوار کے قائم مقام ہے۔ لیکن زندگی میں وہ تہبند کو قمیص کے نیچے رکھتا تھا، تاکہ چلنا آسان ہو اور موت کے بعد تہبند قمیص کے اوپر ہو گی، کیونکہ میت نے چلنا نہیں ہوتا۔ (مبسوط سرخسی، ، جلد 2، صفحہ 60، دار المعرفہ، بیروت)
علامہ حسن بن عمار شرنبلالی (متوفى: 1069ھ) رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”(ولا يجعل لقميصه كم) لأنه لحاجة الحي ۔۔ ۔۔۔ (ولا تكف أطرافه) لعدم الحاجة إليه ملتقطا“ یعنی میت کے کفن کی قمیص کی آستین نہ بنائی جائے، کیونکہ آستین زندہ کی حاجت کے لئے ہوتی ہے۔ یونہی اس کو سائیڈوں سے سلائی نہ کیا جائے، کیونکہ میت کو اس کی حاجت نہیں۔ (نور الایضاح و مراقی الفلاح، صفحہ 216، مکتبہ عصریہ، بیروت)
تنبیہ: ان مذکورہ بالا حوالہ جات کو دیکھنے سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ شرعی مسئلے کوئی نئے ایجاد کردہ نہیں ہیں، بلکہ علمائےکرام صدیوں سے اپنی کتابوں میں لکھتے آ رہے ہیں۔ لہذا اگر کسی علاقے میں اس کے خلاف لوگوں کا عمل رائج ہو گیا ہو، تو اس کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ دین کے ان احکام پر عمل کرنا چاہیے جو مستند علماء اپنی کتابوں میں قرآن و سنت کی روشنی میں لکھتے آ رہے ہیں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-1631
تاریخ اجراء: 17 رمضان المبارک 1445 ھ/28 مارچ 2024ء