logo logo
AI Search

قبروں پر آرٹیفیشل پھول ڈالنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قبروں پر آرٹیفیشل پھول اور لڑیاں وغیرہ ڈالنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عیدین اور شب براءت وغیرہ کے موقع پر بعض لوگ اپنے مرحومین کی قبروں پر آرٹیفیشل پھول اور لڑیاں وغیرہ ڈالتے ہیں کیا یہ قبروں پر ڈال سکتے ہیں؟

نوٹ: یہ آرٹیفیشل پھول اور لڑیاں قبروں پر ہی پڑے پڑے خراب و ناکارہ ہوجاتی ہیں اور بعد میں ان کو کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے۔

جواب

عام مؤمنین کی قبروں پرآرٹیفیشل پھول اور لڑیاں وغیرہ ڈالنا جائز نہیں ہےاس لیے کہ اس سے مقصود تزئین ہوتی ہے اور قبر محلِ زینت نہیں ہے نیز یہ اسراف ہے کہ اسراف و تبذیر کی جامع ترین تعریف یہ ہے غیرِ حق میں صرف کرنا اسراف ہے۔“ ناحق صرف کی ایک صورت یہ ہے کہ مال معصیت میں خرچ کیا جائےاور ناحق صرف کی دوسری صورت یہ ہے کہ کسی غرض کے بغیر مال خرچ کیا جائے، جس میں مال محض ضائع ہوجائے۔ اور دریافت کی گئی صورت میں بھی یہ مال معصیت میں خرچ کیا جارہا ہے نیز بعد میں ان پھولوں اور لڑیوں کا ضیاع ہوتا ہے پھر شریعتِ مطہرہ میں بھی ان کی کوئی اصل نہیں لہٰذا ان کی بجائے تر پھول قبروں پر ڈالے جائیں کیونکہ جب تک وہ تر رہتے ہیں اللہ عزوجل کی تسبیح بیان کرتے ہیں جس سے میت کو انس حاصل ہوتا ہے اور اللہ عزوجل کی رحمت نازل ہوتی ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطّاری مدنی
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ جولائی 2026ء