logo logo
AI Search

میلاد منانا کیسا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

میلاد منانے کا شرعی حکم اور اس کی اہمیت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

اوّلاً یہ سمجھ لیجیے کہ میلاد منانا یعنی حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانا اور اس خوشی کے اظہار میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے با برکت ذکر ، شان و عظمت اور سیرتِ طیبہ کو بیان کرنے کے لیے محافل کا انعقاد کرنا اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے گلیوں، بازاروں میں چراغاں کرنا، وغیرہ شرعاًجائز، بلکہ باعثِ اجر و ثواب کام ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور فضل پرخوشی منانے اور اپنی نعمت کا چرچاکرنے کاحکم خود قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت بھی ہیں ، عظیم فضل بھی ہیں اور سب سے بڑی نعمت بھی ہیں۔ نیز میلادِ مصطفیٰ کا ثبوت بکثرت آیات ، احادیث اور سلف صالحین کے عمل سے بھی ہوتا ہے۔ (اس موضوع پر تفصیلی فتاویٰ دار الافتاء اہل سنت (دعوت اسلامی) کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، وہاں سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔)

اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل و رحمت نصیب ہو، تو اس پر خوشی منانی چاہیے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡاهُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: تم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ ( پ 11، سورۃ یونس، آیت 58)

اللہ پاک نعمت دے تو اس کا خوب چرچا کرنا چاہیے، جیساکہ ارشادِ خداوندی ہے: ﴿وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ (پ 30، سورۃ الضحیٰ، آیت 11)

خود حضورِ اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا یومِ میلاد منایا کرتے تھے، چنانچہ آپ ہر پیر کو روزہ رکھتے تھے، جب اس کی وجہ دریافت کی گئی، تو فرمایا: ’’ذاك يوم ولدت فيه، ويوم بعثت“ اس دن میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن میں مبعوث ہوا تھا (اسی کی خوشی اور یاد میں روزہ رکھتا ہوں)۔ (صحیح مسلم، جلد 2، صفحہ 819، مطبوعہ دار إحياء التراث العربي، بيروت)

معلوم ہوا کہ ولادتِ مبارکہ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور اس دن کو عبادت کے ذریعے یاد کرنا، سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔

جہاں تک سوال میں مذکور اس بات کا تعلق ہے کہ لوگوں نے میلاد منانے کو ضروری سمجھ لیا ہے تو یہ دعویٰ ہی سرے سے درست نہیں، کیونکہ اہل سنت کے نزدیک میلاد منانا محض ایک مستحب اور باعثِ ثواب عمل ہے، اس کے فرض ، واجب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جاتا اور عام طور پر عاشقان رسول مسلمان بھی اسی نظریہ کے تحت میلاد مناتے ہیں، اسے شرعاً فرض، واجب نہیں سمجھتے۔ لہٰذا جو یہ دعویٰ کرے کہ میلاد منانے والے اسے شرعاً ضروری سمجھتے ہیں، اس پر دلیل پیش کرنا لازم ہے، بلا دلیل دعویٰ درست نہیں۔

اور جو یہ کہا گیا کہ جو شخص میلاد نہ منائے اس پر طعنہ زنی کی جاتی ہے یہ بھی حقیقت کے خلاف ہے کہ عموماًطعن و تشنیع، اعتراضات اور بدعت و گمراہی کے فتوے میلاد شریف منانے والوں پرلگائے جاتے ہیں، جبکہ اس کے برخلاف عاشقانِ رسول علمائے کرام اور مبلغین  اسلام میلاد کی اصل (اللہ کی نعمت پر خوشی کا اظہار ، نعت ، شانِ مصطفیٰ کا بیان، درود و سلام پڑھنا، وغیرہ) کو قرآن و سنت اور اسلاف کے عمل سے ثبوت کے طور پر بیان کرتےہیں اور اسے محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اظہار کا ایک بہترین اور عمدہ طریقہ سمجھتے ہوئے اس کی ترغیب دیتے ہیں، جو اچھی نیت سے اس میں شریک ہو وہ ثواب کا حقدار ہے، مگر جو اس کا اہتمام نہ کر سکے، اسے محض اس بنا پر کسی بھی طرح موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاتا اور نہ ہی گناہ گار کہا جاتا ہے۔

ہاں! اگر کوئی شخص میلاد منانے کے جواز کا ہی انکار کرے اور اسے ناجائز و حرام اور بدعتِ سیئہ وغیرہ قرار دے، تو اسے علمی طور پر جواب دینا اور اس عملِ خیر کی مشروعیت بیان کرنا، اہلِ علم کی شرعی ذمہ داری ہے، کیونکہ جس عمل کا جواز شریعتِ مطہرہ کے عمومی دلائل سے ثابت ہو، اسے از خود ناجائز و حرام قرار دینا شرعاً جائز نہیں، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دو ،جنہیں اللہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔ (القرآن الکریم ، سورۃ المائدۃ ، آیت 87 )

حاصل یہ کہ سوال میں ذکر کردہ دعویٰ کہ لوگ میلاد منانے کو لازم و ضروری سمجھتے ہیں ، جب کہ قرآن و سنت میں اس کے وجوب کا ثبوت موجود نہیں دعوی بلا دلیل، بلکہ خلافِ واقع بات ہے۔ اہلِ سنت وجماعت کے نزدیک میلاد شریف منانا فقط ایک مستحب اور باعثِ اجر و ثواب عمل ہے، شرعاً واجب و ضروری نہیں، تو پھر قرآن و سنت سے اس کے وجوب کی دلیل کا مطالبہ کرنا، بلا جواز اور علمی اعتبار سے درست نہیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتویٰ نمبر: FSD-10063
تاریخ اجراء: 12 محرم الحرام 1448ھ / 28 جون 2026ء