مزارات پر گناہ ہوتے ہوں تو وہاں جانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
مزار پر عورتیں اور ڈھول باجا ہوتا ہے تو پھر مزار پر جانے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جہاں تک اِس بات کا تعلق ہے کہ فی زمانہ بعض مزاراتِ اولیاء پر مخصوص ایام یا اوقات میں کچھ جاہلوں کی طرف سے ڈھول اور ناچ کا ہونا، بے پردہ عورتوں کا آنا یا اِس کے علاوہ دیگر مفاسد کے ہونے سے اصلاً ”حاضریِ مزاراتِ اولیاء“ ہی چھوڑ دی جائے تو ایسا کرنا حکمتِ دینیہ اور مقصدِ شرع کے موافق نہیں، کیونکہ ایسے موقع پر کہ جہاں ایک طرف اُمورِ حسنہ ہوں، نیز دینی وروحانی بے شمار فوائد ہوں اور دوسری طرف اُس موضع پر کچھ ایسے مفاسِد بھی موجود ہوں، تو وہاں اُمورِ حسنہ کو ترک نہیں کیا جاتا، بلکہ اُنہیں اختیار کیا جاتا ہےاور مفاسِد کو حتی المقدور ختم کیا جاتا ہے۔ ہاں اگر کسی خاص وقت میں جوشِ جہالت و حرکاتِ سفاہت اپنی انتہاء کو پہنچ جائیں اورخود زائر کے قصدا یا بلاقصد اس میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں خاص اس وقت میں کنارہ کشی کرلینا مناسب ہے لیکن ایسی حالت چند خاص اوقات یا ایام میں ہوسکتی ہے، پورا سال ہر دن ہرگز نہیں۔ بہرحال بعض خرابیوں کی وجہ سے نیک اعمال نہیں چھوڑے جاتے جیسے فقہائےدین نے اِس کی یوں مثال دی کہ جب کسی کا جنازہ جا رہا ہو اور اُس میں نوحہ پڑھنے والی یا چِلَّانے والی خواتین ساتھ ہوں اور کوئی شخص جنازے میں شریک ہونا چاہے، تو وہ اِس لیے جنازہ کو نہیں چھوڑے گا کہ اِس جنازہ میں نوحہ خواں عورتوں کی صورت میں مَفسدہ موجود ہے، بلکہ وہ جنازے میں شرکت کرے اور ایسی خواتین کو موقع ومصلحت کے مطابق جھڑک اور ڈانٹ کر جنازے سے الگ کیا جائے۔ اِسی طرح فاسق شخص کی عیادت کو اُس کے فسق وفجور کے سبب چھوڑ ا نہیں جائے گا، بلکہ سنتِ عیادت پر عمل کی نیت سے اور اُس کے مسلمان ہونے کا لحاظ کرتے ہوئے اُس کی عیادت کی جائے گی۔
جنازے میں نوحہ پڑھنے والی خاتون ہونے کی وجہ سے جنازہ کو نہیں چھوڑ ا جائے گا، چنانچہ درمختار میں ہے:وتزجر النائحة وکذا الصائحۃ و لا يترك اتباعها لأجلها“ ترجمہ: نوحہ کرنے والی عورت اور اسی طرح چیخ و پکار کرنے والی عورت کو ڈانٹا اور روکا جائے گا، لیکن ایسی عورت کی وجہ سے جنازے کے ساتھ جانے کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 05، کتاب الجنائز، صفحہ 332، مطبوعہ دار الثقافۃ والتراث، دمشق)
اِس کی علت بیان کرتے ہوئے علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1252ھ / 1836ء) نے لکھا: لأن السنة لا تترك بما اقترن بها من البدعة“ ترجمہ: کیونکہ سنت کو اُس کے ساتھ لاحق ہونے والی بری بدعت کے سبب چھوڑا نہیں جاتا۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 05، کتاب الجنائز، صفحہ 332، مطبوعہ دار الثقافۃ والتراث، دمشق)
فاسق کے فسق وفجور کے باوجود اُس کی عیادت کے متعلق النھایۃ فی شرح الھدایۃ، العنایۃ شرح الھدایۃ، منحۃ السلوک، فتح باب العنایۃ اور الفتاوی الھندیۃ میں ہے: و اللفظ للعنایۃ: اختلفوا في عيادة الفاسق. و الأصح أنه لا بأس به لأنه مسلم، و العيادة من حقوق المسلمين“ترجمہ: فاسق کی عیادت کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ فاسق بھی مسلمان ہی ہے اور بیمار کی عیادت کرنا مسلمانوں کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔(لہذا بحیثیتِ مسلم اُس کی عیادت کرنا بھی جائز ہے۔) (العنایۃ شرح الھدایۃ، جلد 10، صفحہ 64، مطبوعہ مصر)
صورتِ مسئولہ سے ملتی جلتی ایک منصوص شرعی صورت:
طواف، اُس میں رمل، پھر سعی، وقوفِ عرفات، وقوفِ مزدلفہ اور رمی کے مقامات وہ ہیں کہ جہاں بہر صورت عورتوں سے اختلاط ہوتا ہے، تو کیاعورتوں کے اختلاط کے سبب اِن تمام اُمور سے مردوں کو منع کر دیا جائے گا یا ادائیگی کا حکم دیا جائے گا اور ساتھ احتیاط بتائی جائے گی کہ کسی بھی مفسدہِ شرعیہ کا ارتکاب نہ ہو؟ یقیناً دوسری صورت کو ہی اختیار کیا جائے گا۔ تو مزاراتِ اولیاء پر حاضری میں بھی اگر وہاں ایسی خرابیاں موجود ہوں تو اُن خرابیوں کا ہر ممکن کوشش کے تحت سدِ باب کیا جائے گا اور حاضری مزار کو ترجیح دی جائے گی۔
علامہ ابنِ حجر رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے صورتِ مسئولہ کی مانند سوال ہوا تو آپ نے مذکورہ بالا تمام امثلہ کو بیان کیا اور مزاراتِ اولیاء پر حاضری دینے کی ترغیب دیتے ہوئے جواب دیا۔ سوال وجواب دونوں ذیل میں ہیں:
سُئِل رضي اللہ عنه عن زيارة قبور الأولياء في زمن معين مع الرحلة إليها هل يجوز مع أنه يجتمع عند تلك القبور مفاسد كثيرة كاختلاط النساء بالرجال وإسراج السرج الكثيرة و غير ذلك؟
فأجاب بقوله زيارة قبور الأولياء قربة مستحبة و كذا الرحلة إليها ۔ ۔ ۔ و ما أشار إليه السائل من تلك البدع أو المحرمات فالقربات لا تترك لمثل ذلك بل على الإنسان فعلها و إنكار البدع بل و إزالتها إن أمكنه و قد ذكر الفقهاء في الطواف المندوب فضلا عن الواجب أنه يفعل و لو مع وجود النساء و كذا الرمل لكن أمروه بالبعد عنهن فكذا الزيارة يفعلها لكن يبعد عنهن و ينهى عما يراه محرما بل ويزيله إن قدر۔ ۔ ۔ و من أطلق المنع من الزيارة خوف ذلك الاختلاط يلزمه إطلاق منع نحو الطواف و الرمل بل و الوقوف بعرفة أو مزدلفة و الرمي إذا خشي الاختلاط أو نحوه فلما لم يمنع الأئمة شيئا من ذلك مع أن فيه اختلاطا أي اختلاط وإنما منعوا نفس الاختلاط لا غير فكذلك هنا
ترجمہ: علامہ ابنِ حجر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے پوچھا گیا کہ کیا کسی خاص وقت میں اولیاء کرام کے مزارات پر جانا اور اس کے لیے سفر کرنا، جائز ہے، جبکہ ان مزارات پر بہت سی خرابیاں بھی جمع ہو جاتی ہیں، مثلاً عورتوں اور مردوں کا اختلاط، (حد اسراف تک) چراغاں کرنا اور اِس طرح کے دوسرے کام؟
تو آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب دیا کہ مزاراتِ اولیاء کی حاضری ایک مستحب نیکی ہے اور اسی طرح ان مزارات کی طرف سفر کرنا بھی مستحب ہے۔ سائل نے جن بدعات یا حرام کاموں کی طرف اشارہ کیا ہے، تو اُن غیر شرعی اُمور یا دیگر مفاسد مثلاً عورتوں مردوں کے اختلاط کے سبب اِن نیکیوں (حاضریِ مزار اوردیگر امورِ خیر) کو ہرگز نہیں چھوڑا جائے گا، بلکہ بندے کو چاہیے کہ نیکی کا کام جاری رکھے اور نت نئی خرابیوں کا سدِ باب کرے، بلکہ جس حد تک ممکن ہو، قلع قمع کرے۔ فقہائے کرام نے نفلی طواف بلکہ واجب طواف کے بارے میں بھی یہ بات لکھی ہے کہ عورتوں کی موجودگی کے باوجود طواف کیا جائے گا اور اسی طرح رمل بھی کیا جائے گا، لیکن انہوں نے مرد کو حکم دیا ہے کہ وہ عورتوں سے دور رہے، لہٰذا مزارات کی زیارت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ انسان حاضری تو دے، لیکن خواتین سے دور رہے اور جس حرام کام کو دیکھے، اس سے روکے، بلکہ طاقت ہونے پر اسے ختم کر دے۔ اور جس شخص نے اس خوفِ اختلاط کے سبب زیارت سے بالکل منع کر دیا ، تو اس کے اس اصول کے مطابق طواف، رمل، بلکہ عرفات و مزدلفہ میں ٹھہرنے اور جمرات کو کنکریاں مارنے سے بھی اس وقت منع کرنا لازم آئے گا، جب وہاں مرد و زن کے اختلاط کا خوف ہو، تو جب فقہائے کرام نے ان میں سے کسی بھی چیز سے منع نہیں کیا، حالانکہ ان میں شدید قسم کا اختلاط ہوتا ہے۔ انہوں نے صرف نفسِ اختلاط سے منع کیا ہے، نہ کہ اصل عبادت سے، تو بالکل یہی حکم یہاں حاضریِ مزاراتِ اولیاء کا بھی ہے۔ (الفتاویٰ الکبریٰ الفقھیۃ، جلد 02، صفحہ 24، مطبوعۃ المکتبۃ الاسلامیۃ)
علامہ ابنِ حجر رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے اِسی فتوی سے اقتباس نقل کر کے علامہ شامی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی مزاراتِ اولیاء پر حاضری کے استحباب کو نقل کیا۔ (ردالمحتار مع درمختار، جلد 05، مطلب فی زیارۃ القبور، صفحہ 366، مطبوعہ دار الثقافۃ والتراث، دمشق)وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10060
تاریخ اجراء: 11 محرم الحرام 1448ھ / 27 جون 2026ء