logo logo
AI Search

سونا ناپسند کرنا اور آرٹیفیشل یا چاندی پہننا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کسی خاتون کا آرٹیفیشل اور چاندی کا زیور پہننا اور سونے کو ناپسند کہنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک خاتون ہیں ان کو سونے کا زیور پسند نہیں، وہ آرٹیفیشل اور چاندی کا زیور پسند کرتی اور یہی پہنتی ہیں، سونے کا بنا ہوا زیور نہیں پہنتیں اور کہتی ہیں کہ یہ مجھے ناپسند ہے۔ کیا ان کا یہ عمل ٹھیک ہے؟

جواب

شریعتِ مطہرہ نے عورت کے لئے کسی خاص قسم کے زیور کی پابندی نہیں لگائی اس معاملے میں عورت خود مختار ہے کہ کوئی بھی زیور پہن سکتی ہے جبکہ کوئی اور مانع شرعی نہ ہو جیسے نامحرم کے سامنے آواز والا زیور پہننا، جائز نہیں۔ یوہیں کوئی دھات پسند آنا یا آنا یہ عورت کے لئےاختیاری معاملہ ہے بس اتنا ضرور ہے کہ کسی جائز معاملے کو ناجائز نہ سمجھے مثلاً کسی کو سونے کی دھات پسند نہیں فقط اتنی بات ہے تو کوئی مسئلہ نہیں جبکہ سونے کے زیور کو ناجائز نہ سمجھے۔ لہٰذا اگر کوئی عورت دیگر زیور پہنتی ہے بس سونے کا زیور اس کو پسند نہیں تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں البتہ اگر ماں یا باپ یا شوہر کا حکم ہو تو اس معاملے میں ان کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے ۔ واضح رہے کہ قدرت ہونے کے باوجود عورت کا بالکل بے زیور رہنا مکروہ و ناپسندیدہ عمل ہےلہٰذا کچھ نہ کچھ زیور پہنے رہنا چاہئے۔

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ: چوڑیاں کانچ کی عورتوں کوجائز ہیں پہننا یا ناجائز ہیں؟

تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: جائز ہیں، لعدم المنع الشرعی (اس لئے کہ کوئی شرعی مانع نہیں۔) بلکہ شوہر کے لئے سنگار کی نیت سے مستحب "و انما الاعمال بالنیات (اعمال کا دارومدار ارادو پر ہے۔) بلکہ شوہر یا ماں یا باپ کا حکم ہو تو واجب: لحرمۃ العقوق و لوجوب طاعۃ الزوج فیما یرجع الی الزوجیۃ۔ (ترجمہ: اس لئے کہ والدین کی نافرمانی حرام ہے اور شوہر کی فرمانبرداری بسلسلہ حقوق زوجیت واجب ہے۔) (فتاوی رضویہ، ج 22، ص 115، 116، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ایک مقام پر آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عورت کا باوصف قدرت بالکل بے زیور رہنا مکروہ ہے کہ مردوں سے تشبہ ہے۔ حدیث میں ہے: کان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم یکرہ تعطر النساء و تشبھھن بالرجال، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عورتوں کے تعطر (یعنی بے زیور رہنے) کو اور مردوں سے مشابہت بنانے والی عورتوں کو ناپسند فرماتے۔ (ت)

مجمع البحار میں ہے: قیل اراد تعطل النساء باللام و ھی من لاحلی علیھا و لا خضاب و اللام و الراء یتعاقبان کہا گیا ہے کہ لفظ مذکور سے ”تعطل النساء“ حرج لام کے ساتھ مراد ہے اور اس سے وہ عورتیں مراد ہیں جو نہ تو زیور پہنے ہوں نہ خضاب لگائے ہوں پس یہاں لام اور راء ایک دوسرے کی جگہ آتے ہیں۔ (ت)

حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا: یا علی مر نسائک لایصلین عطلا۔ رواہ ابن اثیر فی النھایۃ۔ اے علی! اپنے مخدرات کو حکم دو کہ بے گہنے نماز نہ پڑھیں۔ (امام ابن اثیر نے النہایہ میں اس کو روایت فرمایا۔ ت)

ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عورت کا بے زیور نماز پڑھنا مکروہ جانتیں اور فرماتیں: کچھ نہ پائے تو ایک ڈوراہی گلے میں باندھ لے۔

مجمع البحار میں ہے: عائشۃ رضی ﷲ تعالٰی عنھا کرھت ان تصلی المرأۃ عطلا ولو ان تعلق فی عنقھا خیطا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عورتوں کے بغیر زیور نماز پڑھنے کو ناپسند فرماتیں) اور فرمایا کرتیں (اگر اور کچھ نہ ہو تو ایک ڈورا ہی گلے میں لٹکالے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 22، صفحہ 127 ۔ 128، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2502
تاریخ اجراء: 12 ربیع الآخر 1447ھ / 06 اکتوبر 2025ء