logo logo
AI Search

شوہر کی اجازت کے بغیر گھر کا راشن یا رقم کسی کو دینا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر کا راشن یا رقم کسی کو دینا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر بیوی اپنے شوہر سے پوچھے بغیر کھانے پینے کی چیزیں یا گھر کے راشن میں سے کوئی چیز یا رقم کسی غریب کو دے، تو کیا بیوی گناہ گار ہوگی؟

جواب

شوہر اپنے پیسوں سے جو سامان اور راشن گھر کے استعمال کے لئے لاتا ہے، اس میں سے کوئی مال یا سامان یا شوہر کے پیسے بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر کسی اور کو نہیں دے سکتی، اس میں شوہر کی اجازت ضروری ہے، البتہ ایسا چھوٹا موٹا سامان یا معمولی چیز جس کا عموماً پڑوس کے ساتھ لین دین چلتا رہتا ہے اور یہ عمل معروف ہو اور شوہر کو اس پر کوئی اعتراض بھی نہ ہو تو ایسی کوئی چیز صراحتاً اجازت کے بغیر بیوی پڑوس میں سے کسی کو دے دے تو گناہگار نہیں ہوگی۔

علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اعلم انہ لابد فی العامل و ھو الخازن و فی الزوجۃ و المملوک من اذن المالک فی ذلک فان لم یکن لہ اذن اصلا فلا یجوز لاحد من ھؤلاء الثلاثۃ بل علیھم وزر تصرفھم فی مال غیرھم بغیر اذنہ و الاذن ضربان احدھما الاذن الصریح فی النفقۃ والصدقۃ و الثانی الاذن المفھوم من اطراد العرف کاعطاء السائل کسرۃ و نحوھا مما جرت بہ العادۃ“

یعنی جان لو!عامل(ملازم) اورو ہی خازن ہے اور بیوی اور غلام کے لئے مالک کی طرف سے ان تصرفات کی اجازت ہونا ضروری ہے، اگر کسی اندازسے بھی اجازت ثابت نہ ہو، تو ان تینوں میں سے کسی کا بھی ایسا تصرف کرنا، جائز نہیں ہے، بلکہ غیر کے مال میں بغیر اجازت تصرف کرنے کا گناہ اُن پر ہوگااور اجازت کی دو قسمیں ہیں: (۱) خرچ کرنے اور صدقہ کرنے کی صراحۃً (واضح الفاظ میں) اجازت ہو اور (۲) عرف کی وجہ سے جو اجازت مفہوم ہوتی ہے(یعنی دلالۃً اجازت) جیسے کسی سائل (بھیک مانگنے والے کو) کوئی پرانی ٹوٹی ہوئی چیزیا اس طرح کی کوئی چیز دینا ،جس پر عرف جاری ہو۔ (عمدۃ القاری، جلد 8، صفحہ 305،دار احیاء التراث العربی، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2618
تاریخ اجراء: 06 جمادی الاولٰی 1447ھ / 29 اکتوبر 2025ء