حیض یا جنابت میں دوپٹہ اوڑھنے سے دوپٹہ ناپاک ہو جائے گا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ناپاکی کی حالت میں دوپٹہ اوڑھا تو کیا وہ ناپاک ہو جائے گا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر ناپاکی کی حالت میں دوپٹہ اوڑھ لیا جائے، تو کیا وہ ناپاک ہوجائے گا؟
جواب
اگر کسی پر غسل فرض ہو یا عورت کے مخصوص ایام چل رہے ہوں، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ محض اس وجہ سے پورا جسم یا کپڑے ظاہری طور پر بھی ناپاک ہو گئے ہیں، احادیثِ مبارکہ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حالتِ حیض میں عورت کا مکمل جسم ناپاک نہیں ہو جاتا اور نہ محض حالتِ جنابت کی وجہ سے کوئی مومن ظاہری طور پر نجس ہوتا ہے، لہٰذا اگرکوئی ظاہری نجاست نہ لگے، تو ناپاکی کی حالت میں دوپٹہ اوڑھنے یا پہننے سے وہ دوپٹہ ہرگز ناپاک نہیں ہوگا۔
چنانچہ حدیثِ مبارک میں ہے ”عن عائشة، قالت: أمرني رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أن أناوله الخمرة من المسجد فقلت: يا رسول اللہ إني حائض فقال: ناولينيها فإن الحيضة ليست في يدك“ ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد سے چٹائی اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوں، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں حائضہ (حالتِ حیض) میں ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ چٹائی مجھے لا دو، کیونکہ حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ (سنن کبری للبیھقی، جلد 1، صفحہ 292، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
مذکورہ بالا حدیثِ مبارک کے تحت شرح مختصر الکرخی میں ہے ”دل أن النجس من الحائض موضع الحيض خاصة“ ترجمہ: یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ حائضہ عورت کا جو حصہ ناپاک ہوتا ہے، وہ خاص طور پر مقامِ حیض ہے (یعنی وہ جگہ جہاں سے خون جاری ہوتا ہے)۔ (شرح مختصر الکرخی، جلد 1، صفحہ 165، دار أسفار، كويت)
مزید ایک حدیثِ مبارک میں ہے ”أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقي حذيفة فأهوى بيده إلى حذيفة فقال حذيفة: إني جنب، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن المؤمن لا ينجس“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ملاقات کے لیے) اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا، تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں جنبی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک مومن ناپاک نہیں ہوتا۔ (مصنف عبد الرزاق، جلد 1، صفحہ 124، المجلس العلمي، ہند)
وقار الفتاوی میں جنبی شخص کے ٹوپی پہن لینے سے ٹوپی کے حکم کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ہے ”جس پر غسل فرض ہوتا ہے، اس کا جسم ایسا ناپاک نہیں ہوتا کہ اسے کوئی پاک چیز لگ جائے، تو وہ بھی ناپاک ہوجائے، اس لیے کہ آدمی کا پسینہ پاک ہے، جھوٹا پاک ہے اور سر پر جو تیل لگا ہوتا ہے، وہ بھی پاک ہے، اس وجہ سے ٹوپی ناپاک نہیں ہوتی ہے۔“ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 7، بزم وقار الدین، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5350
تاریخ اجراء: 17 ربیع الاول 1448ھ/31 اگست 2026ء