logo logo
AI Search

نامحرم اچانک دیکھ لے تو کیا عورت گناہ گار ہوگی؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

نامحرم اچانک سامنے آ جائے، تو کیا عورت کو گناہ ہوگا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

شریعتِ مطہرہ کا حکم ہے کہ جب کوئی شخص دوسرے کے گھر میں داخل ہونا چاہے، تو پہلے صاحبِ خانہ سے اندر آنے کی اجازت حاصل کرے۔ اجازت کے بغیر دوسرے کے گھر میں داخل ہونا شرعاً جائز نہیں۔ یہی حکمِ قرآنی ہے اور احادیثِ مبارکہ میں بھی اس کی واضح تعلیم موجود ہے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے ہی گھر میں والدہ، جوان بہن بیٹی کی موجودگی میں داخل ہوتے وقت بھی اجازت لے کر داخل ہونے کا حکم دیا ہے، جس کا مقصد اپنی آمد کی اطلاع دینا ہے، جو کھانسنے، قدموں کی آہٹ پیدا کرنے، دروازہ کھٹکھٹانے، یا فی زمانہ ڈور بیل بجانے وغیرہ سے حاصل ہو سکتی ہے۔ یونہی شریعت مطہرہ نے تو اجازت لینے کا ادب یہ بیان کیا ہے کہ بالکل دروازے کے سامنے کھڑا نہ ہو کہ کہیں دروازے کے سوراخ وغیرہ سے، یا پردہ ہٹتے ہی، یا دروازہ کھلتے ہی گھر میں موجود عورتوں سے بے پردگی نہ ہو جائے۔

اب سوال کی طرف آتے ہیں کہ اگر کوئی نامحرم اچانک گھر میں داخل ہوجائے جس کی وجہ سے عورت کو اپنے اعضائے ستر چھپانے کا موقع نہ مل سکے اور بے پردگی ہوجائے، تو اس صورت میں عورت پر گناہ ہوگا یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ عورت پر گناہ کا مدار اس بات پر ہوگا کہ پردے کے معاملے میں عورت کی طرف سے کوئی کوتاہی، غفلت اور بے احتیاطی پائی گئی ہے یا نہیں؟

(1) اگر عورت کی طرف سے کوئی غفلت، کوتاہی یا بے احتیاطی موجود ہو، مثلاً کسی نا محرم کوگھر آنے کی اجازت دیدی اور پھر بھی پردے کا اہتمام نہیں کیا ؛ یا گھر میں پہلے سے کوئی نا محرم مہمان موجود ہو اور عورت ایسی جگہ ہو کہ وہاں نامحرم کے آجانے، یا وہاں سے عورت پر اس کی نظر پڑنا ممکن ہو؛ یونہی جوائنٹ فیملی میں جیٹھ، دیور کی موجودگی کے باوجود عورت کا اپنے ستر کے معاملے میں لاپرواہی برتنا، یہ سب اس طرح کی صورتیں ہیں جو غفلت اور کوتاہی میں شمار ہوتی ہیں۔ ان صورتوں میں، یا کوتاہی و غفلت کی مزید کسی صورت میں اگر کسی نا محرم کی نظر عورت کے اعضائے ستر پر پڑجائے تو عورت گنہگار ہوگی کہ یہ اُس کی غفلت و لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔

(2) اگر عورت کی طرف سے کوئی غفلت، کوتاہی اور بے احتیاطی کی صورت نہ ہو اور نا محرم شخص اچانک گھر میں داخل ہوجائے کہ عورت کے لیے فوری طور پر پردہ کرنا، ممکن نہ ہو، تو اس غیر اختیاری حالت پر عورت کو کوئی گناہ نہیں ہوگا، لیکن پھر اگر عورت اسی حالت میں نا محرم کے سامنے رہے گی ،تو اب یہ عورت کے اپنے اختیار سے بے پردگی ہوگی اور اِس پر گناہ ہوگا۔

بغیر اجازت دوسرے کے گھر میں داخل ہونے کی ممانعت سے متعلق ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَاؕ- ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ﴾ (27) ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان میں رہنے والوں پر سلام نہ کرلو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت مان لو۔ (پارہ 18، سورۃ النور: 27)

اس آیت کے تحت علامہ عبد الرحمن بن علی جوزی(متوفی 597ھ) زادالمسیر فی علم التفسیر میں فرماتے ہیں: و لا يجوز أن تدخل بيت غيرك إلا بالاستئذان، لهذه الآية‘‘ ترجمہ: اس آیتِ مبارکہ کی وجہ سے تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ تم اپنے گھر کے علاوہ کسی دوسرے کے گھر میں اجازت لیے بغیر داخل ہوجاؤ۔ (زاد المسير في علم التفسير، جلد 3، صفحہ 288، دار الكتاب العربي، بيروت)

حدیث پاک میں بھی دوسروں کے گھروں میں اجازت لے کر ہی داخل ہونے اور اجازت نہ ملنے پر لَوٹ جانے کا حکم ہے، چنانچہ صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد کی حدیث مبارکہ ہے: و اللفظ لابی داؤد: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: إذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له فليرجع‘‘ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی تین بار اجازت مانگے اور اجازت نہ دی جائے تو واپس لوٹ جائے۔ (سنن ابی دا ؤد، جلد 4، صفحہ 345، رقم الحدیث: 5180، المكتبة العصريہ، بيروت)

اپنے گھر میں بھی محارم عورتوں کی موجودگی میں اجازت لے کر داخل ہونا چاہئے، چنانچہ مؤطا امام مالک، مصنف ابن ابی شیبہ، مراسیل لابی داؤد میں حدیث پاک ہے: (و اللفظ للاول): عن عطاء بن يسار، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم سأله رجل، فقال: يا رسول اللہ، أستأذن على أمي؟ فقال: نعم، قال الرجل: إني معها في البيت، فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: استأذن عليها، فقال الرجل: إني خادمها، فقال له رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: استأذن عليها، أتحب أن تراها عريانة؟ قال: لا، قال: فاستأذن عليها‘‘ترجمہ: حضرت عطاء بن یسار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، کیا میں اپنی ماں کے پاس جانے کے لیے اجازت طلب کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ہاں۔ اس شخص نے عرض کی: میں تو گھر میں اس کے ساتھ رہتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: پھر بھی اس سے اجازت لے کر جاؤ۔ اس نے کہا: میں تو اس کی خدمت کرنے والا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: (پھر بھی)اس سے اجازت لے کر جاؤ۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ اسے برہنہ حالت میں دیکھو؟ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: تو پھر اس سے اجازت لے کر جایا کرو۔ (مؤطا امام مالک، جلد 2، صفحہ 141، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

اس حدیث کی شرح میں علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں فرماتے ہیں: (على أمي): و في معناها بقية المحارم نسبا و رضاعا و مصاهرة إلا الزوجة‘‘ ترجمہ: (اپنی ماں کے پاس جانے کے لیے اجازت لوں) اور ماں کے حکم میں باقی تمام محارم بھی شامل ہیں، خواہ نسبی ہوں، رضاعی ہوں یا سسرالی رشتے کے سبب محرم ہوں، سوائے بیوی کے(کہ وہ اس حکم سے جُداہے)۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 7، صفحہ 2962،دار الفکر، بیروت)

اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح میں فرماتے ہیں: اس اجازت میں یہ آسانی ہے کہ صرف کھانس دینا، پاؤں کی آہٹ کردینا،کنڈی بجادینا، مٹھار دینا (کھنکھارنا)کافی ہوگا۔ باقاعدہ سلام کرکے اجازت لینا ضروری نہ ہوگا۔ (مرقات) کسی طرح اپنی آمد کی اطلاع کافی ہوگی۔ سبحان اللہ! کیسی پیاری وجہ بیان ہوئی کہ چونکہ ماں کا ستر دیکھنا حرام ہے اور بے اجازت داخل ہونے میں اس کا اندیشہ ہے، لہذا اطلاع کرکے آنا چاہیے، ہاں اگر گھر میں صرف بیوی ہو تو اطلاع کی ضرورت نہیں کہ بیوی سے حجاب نہیں۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 6، صفحہ 285، نعیمی کتب خانہ، گجرات(

تبیین الحقائق میں ہے: دخول دار إنسان بغير إذنه حرام‘‘ ترجمہ: کسی شخص کے گھر میں اس کی اجازت کےبغیر داخل ہونا حرام ہے۔ (تبیین الحقائق، جلد 3، صفحہ 123، مطبوعۃ، قاهرة)

بدائع الصنائع میں ہے: (وأما) حكم الدخول في بيت الغير فالداخل لا يخلو إما أن يكون أجنبيا أو من محارمه فإن كان أجنبيا فلا يحل له الدخول فيه من غير استئذان لقوله تبارك وتعالى ﴿يا ايها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوتا غير بيوتكم حتى تستانسوا و تسلموا على اهلها﴾ (النور: 27)…. و سواء كان السكن في البيت أو لم يكن لقوله تعالى ﴿فان لم تجدوا فيها احدا فلا تدخلوها حتى يؤذن لكم﴾ (النور: 28) … و إن كان من محارمه فلا يدخل بغير استئذان أيضا۔ ۔ ۔ لعموم النص الذي تلونا ولو دخل عليها من غير استئذان فربما كانت مكشوفة العورة فيقع بصره عليها فيكرهان ذلك ۔ ۔ ۔ و كذا روي عن حذيفة رضي اللہ عنه أن رجلا سأله فقال أستأذن على أختي؟ فقال رضي اللہ عنه إن لم تستأذن رأيت ما يسوءك إلا أن الأمر في الاستئذان على المحارم أيسر وأسهل لأن المحرم مطلق النظر إلى موضع الزينة منها شرعا ملتقطاً۔

ترجمہ: اور دوسرے کے گھر میں داخل ہونے کا حکم یہ ہے کہ داخل ہونے والا شخص یا تو اجنبی ہوگا یا محرم ہوگا۔ اگر اجنبی ہو تو اس کے لیے بغیر اجازت گھر میں داخل ہونا جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان میں رہنے والوں پر سلام نہ کرلو۔ (النور: 27) ۔ ۔ ۔ اور برابر ہے کہ گھر میں رہائش ہو یا نہ ہو، اللہ تعالی کے فرمان کی وجہ سےکہ پھر اگرتم ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ تو بھی ان میں داخل نہ ہو ناجب تک تمہیں اجازت نہ دیدی جائے۔ ۔ ۔ اور اگر داخل ہونے والا محرم ہو تو بھی بغیر اجازت داخل نہ ہو، کیونکہ نص عام ہے۔ اور اگر وہ بغیر اجازت داخل ہو جائے تو ممکن ہے کہ اس کا ستر کھلا ہوا ہو، تو اس کی نظر اس پر پڑ جائے اور یہ دونوں کے لیے ناپسندیدہ ہوگا۔ ۔ ۔ اور اسی طرح حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: کیا میں اپنی بہن سے اجازت لوں؟ انہوں نے فرمایا: اگر تم اجازت نہ لو گے تو ایسی چیز دیکھ لو گے جو تمہیں ناگوار گزرے گی۔ البتہ محارم کے معاملے میں اجازت لینا نسبتاً آسان اور ہلکا حکم ہے، کیونکہ شرعاً محرم کو ان کے (بعض) زینتی اعضاء کو دیکھنے کی اجازت ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الاستحسان، جلد 5، صفحہ 125، 124، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

بغیر اختیار کے بے پردگی ہوجائے تو گناہ نہیں، البتہ قصداً بے پردگی پر گناہ ہوگا۔ چنانچہ سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، مسند احمد میں ہے: (و اللفظ للاول): عن ابن بريدةعن أبيه، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم لعلي: يا علي، لا تتبع النظرة النظرة، فإن لك الأولى، و ليست لك الآخرة‘‘ ترجمہ: حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی! نظر کے پیچھے نظر نہ لگاؤ، کیونکہ پہلی نظر تمہارے لیے ہے اور دوسری تمہارے لیے نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد، جلد 2، صفحہ 358، رقم الحدیث: 2149،دار احیاء التراث العربی، بیروت)

اس حدیث کی شرح میں امام حسين بن محمود شیرازی حنفی رحمۃ اللہ علیہ المفاتیح شرح المصابیح میں فرماتے ہیں: قوله: لا تتبع النظرة النظرة؛ فإن لك الأولى، و ليست لك الآخرة؛ يعني: إذا وقع نظرك إلى امرأة بغير اختيارك فـ ـاحفظ نظرك، ولا تنظر إليها مرة أخرى؛ فإن لك النظرة الأولى؛ يعني: لا إثم عليك في النظرة الأولى؛ لأنها لم تكن باختيارك، و ليست لك النظرة الأخيرة؛ يعني: يكون عليك إثم بالنظرة الأخيرة؛ لأنها باختيارك‘‘ ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان: ’’نظر کے پیچھے نظر نہ لگاؤ؛ کیونکہ پہلی تمہارے لیے ہے اور دوسری تمہارے لیے نہیں‘‘ یعنی اگر تمہاری نظر بغیر اختیار کے کسی عورت پر پڑ جائے تو اپنی نظر کو محفوظ رکھو اور دوبارہ اس کی طرف نہ دیکھو، کیونکہ پہلی نظر تمہارے لیے ہے، یعنی پہلی نظر پر تم پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ وہ تمہارے اختیار سے نہیں تھی، اور دوسری نظر تمہارے لیے نہیں، یعنی دوسری نظر پر گناہ ہوگا کیونکہ وہ تمہارے اختیار سے ہوتی ہے۔ (المفاتیح شرح المصابیح، جلد 4، صفحہ 24، مطبوعہ دار النوادر)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتویٰ نمبر: FAM-1235
تاریخ اجراء: 02 محرم الحرام 1447ھ / 18 جون 2026ء