لڑکی کا تعلیم کے لئے اکیلے باہر ملک جانا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تعلیم کے حصول کے لئے بیٹی کو باہر ملک اکیلے بھیجنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا بیٹی کو باہر ملک تعلیم کے لیے اکیلے محرم کے بغیر بھیج سکتے ہیں؟ وہاں عورتوں کے ساتھ رہے گی لیکن گھر کا کوئی محرم نہیں ہوگا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں بیٹی کو باہر ملک تعلیم یا کسی بھی مقصد کے لیے محرم کے بغیر اکیلے بھیجنا، جائز نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ عورت کے لیے شرعی حدود میں رہتے ہوئے جائز دنیوی تعلیم حاصل کرنا یا اس کے لیے سفر کرنا، جائز ہے، لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں۔ وہ یہ کہ عورت کے لیے شرعی مسافت (فاصلے) کے سفر میں شوہر یا قابلِ اعتماد محرم (یعنی ایسا مرد رشتہ دار، جس سے اس کا نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو) کا ساتھ ہونا ضروری اور شوہر یا محرم کے بغیر سفر کرنا حرام ہے۔ حدیث پاک میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عورت کو فرض حج کے لیے بھی اپنے محرم مرد کے بغیر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی، تو جوان بیٹی کو دنیوی تعلیم کے لیے محرم کے بغیر سفر پر بھیجنا بدرجہ اَولیٰ ناجائز ہوگا، کیونکہ اس میں فتنے کا قوی اندیشہ ہے۔
مزید یہ کہ غیر ملک میں تعلیمی اداروں میں پردے وغیرہ کا بالکل بھی انتظام نہیں ہوتا، بلکہ وہاں ادارے اور ہاسٹل وغیرہ میں ہر جگہ بے پردگی و غیر مردوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے اور تعلیم میں بھی کو ایجوکیشن ( Co Education) لازمی (compulsory) ہوتی ہے۔ اگرچہ جائز تعلیم حاصل کرنا فی نفسہٖ ممنوع نہیں، اسلام جائز تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکتا، لیکن کو ایجوکیشن ( Co Education) یعنی لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک ساتھ ایک ہی اسکول و کالج یا یونیورسٹی وغیرہ میں پڑھنا شرعاً ناجائز ہے کہ اس میں بے پردگی بھی ہوتی ہے، اور اجنبی مردوں کے ساتھ بے تکلفی بھی پیدا ہوتی، تعلقات قائم ہوتے اور مزید بھی طرح طرح کے فتنوں کا دروازہ کھلتا ہے۔
نیز باہر ملک اگرچہ عورتوں کے ساتھ رہے گی، لیکن وہ انجان عورتیں ہوں گی، جن کے کردار و اخلاق کا کوئی علم نہیں کہ کس طرح کی عورتوں کا ساتھ ملے، اور ان کا کردار کیسا ہو، ایسے میں بعض اوقات ایسی عورتیں بھی ساتھ مل جاتی ہیں، جو بدچلن اور دوسری لڑکیوں کو کئی بڑے گناہوں کی راہ پر لگا دیتی ہیں، اور سوال کے مطابق اس ملک میں آپ کی بیٹی کا کوئی قابلِ اعتماد محرم بھی موجود نہیں، جو اس کی حفاظت وغیرہ کی ضروریات پوری کرے، تو اس اعتبار سے بھی بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
صحیح مسلم میں ہے ”عن ابی سعید الخدری، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: لا یحل لاِمرأۃ تؤمن باللہ و الیوم الاخر ان تسافر سفراً یکون ثلاثۃ ایام فصاعداً الا ومعھا ابوھا او ابنھا او زوجھا او اخوھا او ذومحرم منھا“ ترجمہ: حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر حلال نہیں، مگر جبکہ اس کے ساتھ اس کا باپ یا بیٹا یا شوہر یا بھائی یا اس کا کوئی محرم ہو۔ (الصحیح لمسلم، ج 1، ص 434، مطبوعہ:کراچی)
سنن دارَ قُطنی کی حدیث پاک میں ہے ”جاء رجل إلى المدينة، فقال النبي صلى اللہ عليه وسلم: أين نزلتَ؟، قال: علٰى فُلانةَ، قال: أغلقتْ عليك بابَها ؟ لَا تَحُجَّنَّ امرأةٌ إلا ومعها ذو محرم“ ترجمہ: ایک شخص مدینہ منورہ حاضر ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تم کہاں ٹھہرے ہو“ ؟ اس نے عرض کیا: فلاں خاتون کے یہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا اس نے تم پر اپنا دروازہ بند کیا تھا“ ؟ کوئی عورت اس وقت تک حج نہ کرے، جب تک اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو۔ (سنن الدار قطنی، ج 3، ص 227، رقم الحديث: 2440، مطبوعہ:بيروت)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے ”المحرم للمرأۃ شابۃ کانت او عجوزاً، اذا کانت بینھا و بین مکۃ مسیرۃ ثلاثۃ ایام“ ترجمہ: عورت کے لیے (سفر میں) محرم کا ساتھ ہونا شرط ہے، عورت جوان ہو یا بوڑھی، جبکہ اس کے اور مکۃ المکرمہ (یا جہاں وہ جا رہی ہو، اس جگہ) کے درمیان تین دن کا فاصلہ ہو۔ (الفتاوی الھندیۃ، ج 1، ص 218۔219، مطبوعہ: کوئٹہ)
امامِ اہلِسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اُسے (عورت کو) بغیر شوہر یا محرم کے ساتھ لیے، سفر کو جانا حرام ہے، اس میں کچھ حج کی خصوصیت نہیں، کہیں ایک دن کے راستہ پر بے شوہر یا محرم جائے گی تو گنہ گار ہوگی ۔“ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 657، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’عورت کو بغیر محرم کے تین دن یا زیادہ کی راہ جانا، ناجائز ہے بلکہ ایک دن کی راہ جانا بھی۔ نابالغ بچہ یا معتوہ کے ساتھ سفر نہیں کر سکتی، ہمراہی میں بالغ محرم یا شوہر کا ہونا ضروری ہے ۔“ (بہار شریعت، حصہ 4، ج 1، ص 752، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
قرآن کریم میں نظر کی حفاظت اور بے پردگی کی ممانعت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے: ﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ (۳۰) وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے، بیشک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ دکھائیں، مگر جتنا (بدن کا حصہ) خود ہی ظاہر ہے اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں۔“ (پارہ 18، سورۃ النور، آیت 30۔31)
دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے: ﴿وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”اور بے پردہ نہ رہو، جیسے پہلی جاہلیت کی بے پردگی۔“ (پارہ 22، سورۃ الاحزاب، آیت 33)
حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ: زنا العين النظر، وزنا الشفتين التقبيل، وزنا اليدين البطش، وزنا الرجلين المشي“ ترجمہ: حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنکھ کا زنا بدنگاہی ہے، ہونٹوں کا زنا بوسہ لینا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا (گناہ کی طرف) چلنا ہے۔ (شعب الایمان، جلد 9، صفحہ 277، باب معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، مطبوعہ: ریاض)
مکاشفۃ القلوب میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ حدیث پاک نقل کرتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”من ملأ عینیہ من الحرام ملأ اللہُ تعالیٰ یوم القیامۃ عینیہ من النار“ ترجمہ: جو اپنی آنکھوں کو حرام سے بھرے گا، قیامت کے دن اللہ پاک اُس کی آنکھوں میں آگ بھر دے گا۔ (مکاشفۃ القلوب، صفحہ 11، دار القلم، بیروت )
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”بے پردہ بایں معنی کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے، ان میں سے کچھ کھلا ہو، جیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یا گلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز، تو اس طور پر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے، خواہ وہ پیر ہو یا عالم یا عامی جوان ہو، یا بوڑھا۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج 22، ص 239، 240، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نیز ایک اور مقام پر فرمایا: ”لڑکیوں کا۔۔۔ اجنبی نوجوان لڑکوں کے سامنے بے پردہ رہنا بھی حرام۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج23، ص690، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5270
تاریخ اجراء: 26 صفر المظفر 1448ھ/10 اگست 2026ء