عورت کا غیر محرم مرد ڈاکٹر کے ساتھ تنہائی اختیار کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عورت کا اجنبی ڈاکٹر کے ساتھ خلوت اختیار کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ یوکے (U.k) میں عموماً اس طرح ہوتا ہے کہ خاتون اکیلی ڈاکٹر کے پاس جاتی ہے اور کئی مرتبہ ڈاکٹر اور عورت کے درمیان خَلْوت (تنہائی) والی صورت پائی جاتی ہے، تو اس طرح کی صورتِ حال میں کوئی عورت کسی مرد پیشہ وَر ڈاکٹر کے پاس جاسکتی ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں جوان عورت کا کسی اجنبی (غیر مَحرم) ڈاکٹر کے ساتھ کمرے میں خَلْوَت (تنہائی) اختیار کرنا شرعی طورپر ناجائزو حرام ہے۔ چونکہ اجنبی مرد و عورت کا تنہائی میں جمع ہونا فتنے کا باعث ہے، اس لئے شریعت نے اس کو حرام قرار دیا ہے۔ ہاں اگر وہ نو سال سے کم عمر کی ہے یا حدِ فتنہ سے نکل چکی ہے یعنی ساٹھ ستر سال کی بَدشکل و کریہُ النظر (یعنی جس کی طرف دیکھنا پسندیدہ نہ ہو) بڑھیا ہو تو پھر خلوت حرام نہیں ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ساجد عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Book-189