logo logo
AI Search

عورت کا چوٹی باندھ کر غسل کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت چوٹی باندھ کر غسل کرے اور جڑوں کے علاوہ بال خشک رہ جائیں تو کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

غسل میں اگر عورت کی چوٹی بندھی ہوئی ہو، اور کھولنا مشکل ہو، اور پانی جڑ تک تو آسانی سے پہنچ جائے، لیکن غسل سے فارغ ہو لینے کے بعد، جب چوٹی کھولی، تو جڑوں کے علاوہ بال خشک ہیں، تو غسل کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

عورت کی گندھی ہوئی چوٹی کی جڑیں، غسل میں تر ہوجائیں، تو اگرچہ چوٹی کے اندروالے بال خشک رہ جائیں، تب بھی عورت کا غسل ہوجائے گا۔ اس بارے میں تفصیل یہ ہے کہ:

سر کے بال گندھے نہ ہوں تو ہر بال پر جڑ سے نوک تک پانی بہنا فرض ہے، اور گندھے ہوں تو مرد پر فرض ہے کہ ان کو کھول کر جڑ سے نوک تک پانی بہائے، اور عورت پر صرف جڑیں تر کرلینا ضروری ہے، کھولنا ضروری نہیں، ہاں اگر چوٹی اتنی سَخْت گُندھی ہو کہ بے کھولے جڑیں تر نہ ہوں گی، تو کھولنا ضروری ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں چوٹی گندھی ہونے کی صورت میں جب بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ گیا ہے، تو عورت کا غسل ادا ہوگیا، اگرچہ جڑوں کے علاوہ چوٹی کے اندر والے بال خشک ہی رہ گئے۔

صحیح مسلم میں ہے ”عن أم سلمة، قالت: قلت يا رسول الله إني امرأة أشد ضفر رأسي فأنقضه لغسل الجنابة؟ قال: «لا. إنما يكفيك أن تحثي على رأسك ثلاث حثيات ثم تفيضين عليك الماء فتطهرين“ ترجمہ: حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے روایت ہے، فرماتی ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اپنے سر کی چوٹی مضبوط گوندھتی ہوں تو کیا غُسلِ جنابت کے لیے اسے کھول ڈالوں؟ فرمایا: نہیں تمہیں اتنی بات ہی کفایت کرے گی کہ تم اپنے سر پر تین لَپ پانی ڈال لو، پھر اپنے اوپر پانی بہالو، پاک ہو جاؤگی۔ (صحیح مسلم، کتاب الحیض، ص 135، رقم الحدیث 330، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مذکورہ حدیث پاک ذکر کرکے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: یعنی جب کہ بالوں کی جڑیں تر ہو جائیں اور اگر اتنی سَخْت گندھی ہو کہ جڑوں تک پانی نہ پہنچے تو کھولنا فرض ہے۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 2، ص 313،مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

فتاوی ہندیہ میں ہے "و ليس على المرأة أن تنقض ضفائرها في الغسل إذا بلغ الماء أصول الشعر و ليس عليها بل ذوائبها هو الصحيح كذا في الهداية و لو كان شعر المرأة منقوضا يجب إيصال الماء إلى أثنائه" ترجمہ: عورت پر غسل میں اپنی چوٹیاں کھولنا لازم نہیں، جبکہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے اور اس پر بالوں کی چوٹیوں کو بھگونا بھی لازم نہیں یہی صحیح قول ہے۔ اسی طرح ہدایہ میں مذکور ہے۔ البتہ اگر عورت کے بال کھلے ہوئے ہوں تو ان کے درمیان تک پانی پہنچانا واجب ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الطہارۃ، الفصل الأول في فرائض الغسل، ج 1، ص 16،دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

اللباب میں ہے (و ليس) بلازم (على المرأة أن تنقض) أي: أي تحل ضفر (ضفائرها في الغسل) حيث كانت مضفورة و إن لم يبلغ الماء داخل الضفائر قال في الينابيع: و هو الأصح و مثله في البدائع، و في الهداية: و ليس عليها بل ذوائبها وهو الصحيح، و في الجامع الحسامي: و هو المختار، و هذا (إذا بلغ الماء أصول الشعر) أي منابته" ترجمہ: عورت کےجب بال گندھے ہوئے ہوں، توغسل میں عورت پر اپنی چوٹیاں کھولنا لازم نہیں، جبکہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے یعنی بال اگنے کی جگہ تک، اگرچہ پانی چوٹیوں کے اندر تک نہ پہنچے۔ ینابیع میں فرمایا: یہی زیادہ صحیح قول ہے، اور اسی کی مثل بدائع میں ہے۔ اور ہدایہ میں ہے: عورت پر بالوں کی چوٹیوں کو ترکرنا لازم نہیں، یہی صحیح قول ہے۔ اور جامع حسامی میں ہے: یہی مختار قول ہے۔ اور یہ تب ہے جبکہ پانی بالوں کی جڑوں یعنی ان کے اگنے کی جگہ تک پہنچ جائے۔ (اللباب في شرح الكتاب، کتاب الطہارۃ، ج 01، ص 40، مطبوعہ: کراچی)

بہار شریعت میں ہے خاص غُسل کے ضروریات یہ ہیں۔ (1) سر کے بال گندھے نہ ہوں تو ہر بال پر جڑ سے نوک تک پانی بہنا اور گندھے ہوں تو مرد پر فرض ہے کہ ان کو کھول کر جڑ سے نوک تک پانی بہائے اور عورت پر صرف جڑ تر کرلینا ضروری ہے کھولنا ضروری نہیں، ہاں اگر چوٹی اتنی سَخْت گُندھی ہو کہ بے کھولے جڑیں تر نہ ہوں گی تو کھولنا ضروری ہے۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 2، ص 317، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5090
تاریخ اجراء: 23 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 09 جون 2026ء