logo logo
AI Search

کیا عورت دوسری عورت کو بوسہ دے سکتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عورت کا عورت کو بوسہ دینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا ایک عورت کا دوسری عورت کو بوسہ دینا، محبت میں چھونا، ہونٹ پر پیار کرنا اسلام میں جائز ہے، یا ناجائز ؟

جواب

جنسی لذت (شہوت) کے ساتھ ایک عورت کا دوسری عورت کو بوسہ دینا، اس کے بدن کو چھونا اسلام میں ہرگز جائز نہیں، یہ سخت گناہ ہے اور سوال میں بظاہر یہی صورت پوچھی گئی ہے، البتہ تعظیم و احترام، محبت و شفقت کے طور پر، یا ملاقات و رخصت کے وقت ہاتھ چومنے، پیشانی پر بوسہ دینے یا گلے ملنے میں حرج نہیں، بشرطیکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو، ورنہ اس کی بھی اجازت نہیں اور یہ جائز صورتیں عموما ماں بیٹی، دادی پوتی، نانی نواسی یا خاندان کی کسی بوڑھی بزرگ شفیق خاتون اور اس کی کم عمر رشتے داروں میں ہوتی ہیں، لڑکیوں کی اپنی دوستوں یا کزنوں وغیرہ کے ساتھ ایسا انداز ہرگز نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں جواز کی کوئی امید ہے۔

تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ’’(وكره) تحريما قهستاني (تقبيل الرجل) فم الرجل أو يده أو شيئا منه ‌وكذا ‌تقبيل ‌المرأة ‌المرأة عند لقاء أو وداع قنية وهذا لو عن شهوة، وأما على وجه البر فجائز عند الكل خانية، وفي الاختيار عن بعضهم لا بأس به إذا قصد البر وأمن الشهوة‘‘ ترجمہ: اور مرد کا مرد کے منہ کو، یا اس کے ہاتھ کو، یا اس کے جسم کے کسی حصے کو چومنا مکروہِ تحریمی ہے، اسی طرح عورت کا عورت کو ملاقات یا رخصت کے وقت چومنا بھی۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ شہوت سے ہو۔ البتہ اگر حسنِ سلوک کے طور پر ہو تو تمام علماء کے نزدیک جائز ہے۔ اور الاختیار میں بعض علماء سے منقول ہے کہ اگر نیکی و احترام کا قصد ہو اور شہوت کا اندیشہ نہ ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 9، صفحہ 627، دار المعرفۃ، بیروت)

در مختار مع رد المحتار میں ہے: ’’(يكره تقبيل المرأة فم أخرى أو خدها عند اللقاء أو الوداع كما في القنية) وهذا لو عن شهوة كما مر‘‘ ترجمہ: عورت کا عورت کے منہ یا اس کے گال کو ملاقات یا رخصت کے وقت چومنا مکروہ ہے، جیسا کہ قنیہ میں ہے اور یہ حکم اس صورت میں ہے جب یہ شہوت کے ساتھ ہو، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 9، صفحہ 632، دار المعرفۃ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ’’بوسہ دینا اگر بشہوت ہو تو ناجائز ہے اور اکرام و تعظیم کے لیے ہو تو ہوسکتا ہے۔ پیشانی پر بوسہ بھی انھیں شرائط کے ساتھ جائز ہے۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 472، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے: ’’لا يجوز للرجل تقبيل فم الرجل أو يده أو شيء منه، وكذا تقبيل المرأة للمرأة، والمعانقة ومماسة الأبدان، ونحوها، وذلك كله إذا كان على وجه الشهوة، وهذا بلا خلاف بين الفقهاء‘‘ ترجمہ: مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے مرد کے منہ کو چومے، یا اس کے ہاتھ کو، یا اس کے جسم کے کسی حصے کو چومے، اسی طرح عورت کا عورت کو چومنا، معانقہ کرنا اور جسموں کا باہم چھونا وغیرہ بھی (ناجائز ہے) جبکہ یہ سب شہوت کے ساتھ ہو۔ اس میں فقہاء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ (موسوعہ فقھیہ کویتیہ، جلد 13، صفحہ 130، دار السلاسل - الكويت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1214
تاریخ اجراء: 15 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 01 جون 2026ء